السلام
عليكم ورحمة الله وبركاته
بسم الله
الرحمن الرحيم
الحمد لله
رب العالمين والصلاة والسلام على أشرف الأنبياء والمرسلين وعلى آله وصحبه اجمعين أما
بعد
سوال:-
شب برات کی
حقیقت بتائیں، بعض علماء اسے بدعت کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ لازمی ہے! اگر
ناخواندہ لوگ سوشل میڈیا پر ایسی اختلافی ویڈیوز دیکھیں گے تو ان پر کیا اثر پڑے
گا؟
Sawal:-
Shab-e-baraat
ki haqeeqat batayen, baaz ulama usay bid’at kahte hain aur baaz kehte hain ke
laazmi hai! Agar nakhawanda (illiterate) log social media par aisi ikhtalafi
videos dekhen-ge to unn par kya assar pade ga?
Kya ek Muslim ghair Muslim ko khoon donate karsakta hai? - کیا ایک مسلم غیر مسلم کو خون عطيہ کر سکتا ہے؟
جواب:
- ✍
عام انسان کو چاہیے کے وہ "سوشل میڈیا"
کو دین سیکھنے کا معیار (پلاٹفوم) نہ بنائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مختلف مکاتب فکر
کے علماء اور ان کے علاوہ غیر علماء بھی دینی مسائل پر اپنی رائے پیش کر رہے ہیں۔
جس کی وجہ سے عام آدمی کے لیے دین کو سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔
لہٰذا جس عالم دین تک آپ کی رسائی ہے انہیں دینی
مسائل سیکھنے میں اپنا رہنما اور سرپرست (مرشد) بنائیں۔
اختلافی مسائل میں قرآن و سنت کی طرف رجوع
کرنا چاہیے:
اسلامی شریعت کا یہ قطعی اصول ہے کہ دین کے جس
مسئلہ میں بھی اختلاف ہو اسے کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف
رجوع کرنا چاہیے۔ پھر اگر اس مسئلہ میں دونوں یا ان میں سے کسی ایک کا حکم صحیح
ثابت ہو جائے تو شریعت کے مطابق اس پر عمل کرنا واجب ہے۔ اور مخالفت کی صورت میں
چھوڑنا ضروری ہے۔
قرآن شريف:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا
اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْۚ-فَاِنْ
تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ
كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ
اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا (سورة النساء - 59)
ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی
اطاعت کرو اور ان لوگوں کی جو تم میں سے حاکم ہیں۔ پھر اگر تم کسی چیز میں اختلاف
کرو تو اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اسے اللہ اور اس کے رسول کے
سامنے پیش کرو۔ یہ بہتر ہے اور اس کا انجام بہترین ہے۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ احکام کی تین قسمیں ہیں،
ایک وہ ہے جو ظاہر کتاب یعنی قرآن سے ثابت ہوں۔ دوسرے وہ جو ظاہری احادیث سے ثابت
ہوں اور تیسرے وہ جو قرآن و حدیث سے قیاس کے ذریعے معلوم ہوں۔ آیت میں "اُولِی
الْاَمْرِ" کی اطاعت کا حکم ہے، اس میں امام، علماء ،
بادشاہ، حاکم، قاضی شامل ہیں۔
شعبان کے روزے اور عبادات "نفل"
ہیں جنہیں واجب (لازمی) یا
ضروری نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا
مقصد بیان فرمایا:
وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا
لِیَعْبُدُوْنِ (سورة الذاريات -56)
ترجمہ: اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اس لیے پیدا
کیا کہ وہ میری عبادت کریں۔
چونکہ انسان کی پیدائش کا مقصد ہی عبادت ہے
لہٰذا شعبان میں نفل عبادت کی جا سکتی ہے۔ اور شعبان کی پندرہویں رات کو
"شبِ برأت" کہا جاتا ہے، یعنی
وہ رات جس میں مخلوق کو گناہوں سے بری (معاف) کر دیا جاتا ہے۔ اس رات سے متعلق تقریباً
دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے احادیث نقل ہوئی ہیں۔
حديث شريف:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب
نصف شعبان ہو جائے، تو روزے نہ رکھو، جب تک کہ رمضان نہ آ جائے۔ (ابو داؤد)
حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں
کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان سے زیادہ کسی اور مہینے میں روزہ
رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ (ترمذی)
حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا
مزید فرماتی ہیں: ایک رات میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پایا۔ میں آپ صلَّی
اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تلاش میں نکلی تو آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ
واٰلہٖ وسلَّم کو میں نے جنت البقیع میں پایا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں (15ویں) رات کو دنیا کے آسمان پر ظاہر
ہوتا ہے (تجلّی فرماتا ہے) پس قبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ
لوگوں کو بخش دیتا ہے۔ (ترمذی)
معلوم ہوا کہ شبِ براءت میں عبادات کرنا اور قبرستان جانا سنت ہے۔
امام ابن ماجہ اور امام بیہقی نے شعب الایمان
میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا:
جب نصف شعبان کی رات آئے تو رات کو قیام کرو
اور صبح کو روزہ رکھو، کیونکہ اس رات اللہ تعالیٰ کی رحمت غروب آفتاب سے لے کر
آسمانِ دنیا پر نازل ہوتی ہے اور پکارتی ہے: اگر کوئی استغفار کرنے والا ہے تو میں
اسے بخش دوں گا، اگر کوئی رزق مانگنے والا ہے تو میں اسے رزق دوں گا، اگر کوئی بیمار
ہے جو شفاء کا طالب ہے تو میں اسے شفا دوں گا، یہاں تک کہ فجر طلوع ہو ہوجاتی ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ اس رات میں تمام مخلوق کی
بخشش کی جاتی ہے سوائے سات لوگوں کے، وہ یہ ہیں: مشرک، والدین کے نافرمان، کینہ
باز، شرابی، قاتل، شلوار ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والے اور چغل خور۔ ان سات افراد کی
اس عظیم رات میں بھی مغفرت نہیں ہوتی جب تک كہ وہ اپنے گناہوں سے توبہ نہ کریں۔
ان احادیث مبارکہ اور صحابہ کرام رضی اللہ
عنہم اور بزرگان دین رحمہم اللہ کے افعال سے اس رات میں عبادت کرنا ثابت ہے: اس رات
قبرستان جا کر مرحومیں کے لئے ایصال ثواب اور مغفرت کی دعا کریں۔ زندگی میں ایک
بار یہ عمل کرنے سے سنّت ادا ہو جائے گی۔ اس رات میں نوافل، تلاوت قرآن (سورة یاسین
شريف 3 مرتبہ)، ذکر واذکار کا اہتمام کرنا اور دن میں روزہ رکھنا بھی مستحب ہے۔
اجتماعی عبادات:
اجتماعی عبادت کا مقصد تعلیم و تربیت ہونا
چاہئے۔ وہ لوگ بھی جو دینی تعلیمات سے نا واقف ہیں اس اجتماعی عمل میں شریک ہو کر
نوافل اور اذکار کی ادائیگی میں آسانی سے اپنی نمازیں ادا کرتے ہیں اور وہ چیزیں سیکھ
لیتے ہیں جو وہ نہیں جانتے تھے۔
یہ بات ذہن نشین رہے کہ اجتماعی عبادات ایک
عالمِ باعمل کی تربیت و نگرانی میں ہونی چاہیے، جو علمی اور روحانی دونوں لحاظ سے
لوگوں کی تربیت اور اصلاح کر سکے۔
شبِ براءت گمراہوں اور سرکشوں کے لیے دستک ہے۔
وہ لوگ جو آخرت کی زندگی کو بھول چکے ہیں اور دنیا کی خواہشات میں بری طرح پھنسے
ہوئے ہیں۔ پٹاخے، آتش بازی ، سڑکوں ، چبوتروں پر رات اور وقت گزارتے ہیں، یہ سب
خرافات ہیں۔
شیطان
انسان کو اللہ کی بخشش اور عبادت سے محروم کرنا چاہتا ہے، اور یہی اُس کا اصل ہدف
ہے۔
شب برات دنیا و آخرت سنوارنے کی فکر کا نام ہے
فاصلوں کو مٹا کر اللہ اور اس کے رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قربت کی علامت
ہے۔ اگر ہم اپنی روزمرہ کی زندگی کا جائزہ لیں تو ہمیں اس کا احساس ہونا چاہیے اور
سبق سیکھنا چاہیے کہ ہم ہر روز اپنے بہت سے رشتہ دار اور دوست احباب کو ''كل نفس
ذائقة الموت'' کے فرمان کے مطابق اس دار فانی سے رخصت کرتے ہیں۔ ان کی رخصتی دراصل
ہمارے لیے یہ سوچنے کی دعوت ہے کہ ہم نے اپنی آخرت کیلئے کیا تیار کیا ہے۔
یہ رات اپنے رب کو یاد کرنے اور اسے منانے کی
رات ہے، اپنے اعمال کو بہتر بنانے کی رات ہے ان کیلئے جو غفلت کی زندگی گزار رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حق کے راستے
پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم
Goad liye gaye bachche ko kis ke naam se mansoob kiya jaye. - گود لئے گئے بچے کو کس کے نام سے منسوب کیا جائے
Jawab:- ✍
Aam
insaan ko chahiye ke woh "Social Media" ko deen seekhnay ka platform nah banayen. Iss ki wajah yeh hai ke
mukhtalif mkatb fikar (Different schools of thought) ke ulama aur un-ke ilawa
ghair ulama bhi deeni masail par apni raye (opinion) paish kar rahay hain. Jis
ki wajah se aam aadmi ke liye deen ko samjhna mushkil ho jata hai.
Lehaza
jis Aalam-Deen (Islamic scholar) tak aap ki rasai (contact) hai Unhe deeni
masail seekhnay main apna rehnuma aur sarparast (murshid) banayen.
Ekhtalafi
masail main Quran O sunnat ki taraf rujoo karna chahiye:
Islami
Shari'at ka yeh qata'ee usool hai ke deen ke jis masla main bhi Ekhtilaaf ho
usay Allah ki kitaab aur sunnat Rasool Allah (صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم) ki taraf rujoo karna chahiye. Phir agar is masla main dono ya
un main se kisi Ek ka hukum sahih saabit ho jaye to Shari'at ke mutabiq uss par
amal karna wajib hai. aur mukhalfat ki soorat main chhordna zaroori hai.
Qur'an
Shareef:
Tarjumah:
aye imaan walo! Allah ki ita'at karo aur Rasool ki ita'at karo aur un logon ki
jo tum main se haakim hain. Phir agar tum kisi cheez main Ekhtilaaf karo to
agar tum Allah aur yom akhirat (Day of judgment) par imaan rakhtay ho to usay
Allah aur is ke Rasool ke samnay paish karo. Yeh behtar hai aur uss ka injaam
behtareen hai. (Surat An-Nisa - 59)
Iss
aayat se maloom huwa ke ehkaam ki teen kismain (3 typies) hain, Ek woh hai jo
zahir kitaab yani Quran se saabit hon. Dosray woh jo zahiri ahadees se saabit
hon, aur teesray woh jo quran o hadees se qiyaas ke zariye maloom hon. Aayat
main ("اُولِی الْاَمْرِ") (Authorized person) ki ita’at ka
hukum hai, iss main Imam, Ulama, Badshah, Haakim, Qaazi shaamil
hain.
Shabaan
ke rozay aur Ibadaat "Nafil" hain jin-hein wajib (laazmi) ya zaroori
nahi samjha jana chahiye.
Allah
ta'ala ne insaan ki takhleeq ka maqsad bayan farmaya:
Tarjumah: Aur main ne jinn aur
insanon ko is liye paida (born) kiya ke woh meri ibadat karen. (Surat
Al-Dhariyat-56)
Chunkay
insaan ki paidaiesh ka maqsad hi ibadat hai lehaza Shabaan main Nafil ibadat ki
ja-sakti hai. Shabaan ki pandarvin (15th) raat ko "Shab-e-Baraat"
kaha jata hai, yani woh raat jis main makhlooq ko gunaaho se bari (maaf) kar
diya jata hai. Iss raat se mutaliq taqreeban das (10) sahaba-e-karaam (R.A) se
ahadees naqal hui hain.
Hadees
Shareef:
Rasool
Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ne farmaya: Jab
nisf (half) shabaan ho jaye, to rozay nah rakho, jab tak ke ramadaan nah aa
jaye. (Abu Dawood)
Hazrat
Sayeda Ayisha Sadiqa (Razi Allah Anha) farmaati hain ke main ne Rasool Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ko shabaan se ziyada kisi aur mahinay
main roza rakhtay hue nahi dekha. (Tirmizi)
Hazrat
Sayyeda Ayisha Sadiqa (Razi Allah Anha) mazeed farmaati hain: Ek raat main ne
Huzoor (صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم) ko nah paaya. Main Huzoor (صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم) ki talaash main niklee to Huzoor (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ko main ne Jannat-al-Baqi (Qabristan)
main paaya. Huzoor-e-Akram (صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم) ne farmaya: Bay-shak Allah ta'ala shabaan ki pandarvin (15th)
raat ko duniya ke aasman par zahir hota hai (tajallii farmata hai) pas Qabeela
bani club (Tribe) ki bakrion ke balon se bhi ziyada logon ko bakhash deta hai.
(Tirmizi)
Maloom
huwa keh Shab-e-Baraat main Ibadaat karna aur qabristan jana sunnat hai.
Imam
Ibn maja aur imam Beyhaqi ne "Shu'ab al-imān" main Hazrat Ali (رضی اللہ عنہ) se riwayat ki hai ke Rasool Allah (صلی اللہ علیہ وسلم ) ne farmaya :
Jab
nisf (half) Shabaan ki raat aaye to raat ko qiyam karo aur subah ko roza rakho,
kyunkay iss raat Allah ta'ala ki rehmat ghuroob aftaab (sunset) se le-kar
Aasman duniya par nazil hoti hai aur aawaz deti hai: Agar koi astaghfar karne
wala hai to main usay bakhash dun-ga, agar koi rizaq mangnay wala hai to main
usay rizaq dun-ga, agar koi bemaar hai jo Shifa ka taalib hai to main usay
Shifa dun-ga, yahan tak ke Fajar tulu ho hojati hai.
Ek
riwayat main hai ke iss raat main tamam makhlooq ki bakhshish ki jati hai
siwaye saat logon ke, woh yeh hain: Mushrik, Walidain ke nafarman, Keena baaz,
Sharaabi, Qaatil, Shalwar takhno se neechay latkanay walay aur chugal Khor. Un
saat afraad ki is azeem raat main bhi maghfirat nahi hoti, jab tak keh woh apne
gunaaho se tauba nah karen.
Inn
Ahadees e mubarikah aur sahaba karaam (رضی اللہ عنہم)
aur buzurgaan-e-Deen (رحمہ اللہ) ke amal se iss raat
main ibadat karna saabit hai: Iss raat main qabristan ja kar marhomeen ke liye
Esaal-e-sawab aur maghfirat ki dua karen. Zindagi main ek baar yeh amal karne
se sunnt adaa ho jaye gi. Iss raat main nawafil, tilawat-e-Quran (Surah Yaseen
3 martaba tilawat karen), zikar O azkar ka Ehtimaam karna aur din main roza
rakhna bhi mustahib hai.
Ijtimai
Ibadaat:
Ijtimai
ibadat ka maqsad taleem O tarbiyat hona chahiye. Woh log bhi jo deeni talemaat
se na waaqif hain iss ijtimai amal main shareek ho kar nawafil aur azkar ki
adaigi main aasani se apni namazain adaa karte hain aur woh cheeze seekh letay
hain jo woh nahi jantay thay.
Yeh
baat zehen nasheen rahay ke ijtimai ebadaat ek aalimِ-e-Ba'amal ki tarbiyat O
nigrani main honi chahiye, jo Ilmi aur Rohani dono lehaaz se logon ki tarbiyat
aur islaah kar sakay.
Shab-e-Baraat gumrahon aur sarkash logon ke liye dastak
hai. Woh log jo akhirat ki zindagi ko bhool chuke hain aur duniya ki khwahisaat
main buri tarha phansay huve hain. Patakhe (Firecrackers), Aatish baazi,
Sardkon, chabotron par raat aur waqt guzarna, yeh sab khurafaat hain.
Shaitaan
insaan ko Allah ki bakhshish aur ibadat se mahroom karna chahta hai, aur yahi
uss ka asal maqsad hai.
Yeh
raat apne Rab ko yaad karne aur usay mananay ki raat hai, apne aamaal ko behtar
bananay ki raat hai, unn ke liye jo ghaflat ki zindagi guzaar rahay hain.
Allah
ta'ala se Dua hai ke woh hamein haq ke rastay par chalne ki taufeeq ataa
farmaiye.
Ameeen.