Share

Monday, March 17, 2025

نماز میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورت پڑھنے کے احکام اور ترتیب - Namaz mein Surah Fatiha ke baad Surah padhne ke ahkam aur tarteeb.

 

Islami Taleemaat O Fiqhi Masail


 بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ وَٱلصَّلَاةُ وَٱلسَّلَامُ عَلَىٰ أَشْرَفِ ٱلْأَنْبِيَاءِ وَٱلْمُرْسَلِينَ وَعَلَىٰ آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَط اَمَّا بَعْدُ۝

سوال:-

نماز میں سورہ فاتحہ کے بعد جو سورتیں پڑھي جاتي ہیں ان کی ترتیب کس طرح ہونی چاہیے؟

Sawal:

Namaz mein Surah Fatiha ke baad jo sooratein padhi jati hain unki tarteeb kis tarah honi chahiye?

جواب:✍

قرآنِ پاک میں سورتوں کی ایک مخصوص ترتیب ہے، جس میں پہلی سورت "سورة الفاتحہ" اور دوسری "سورة البقرة" ہے، جبکہ آخری سورت "سورة الناس" ہے۔

یہاں آخری 10 سورتوں کا ذکر کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں نماز میں کس ترتیب سے پڑھنا چاہیے۔

1-   سورہ الفیل (سورہ نمبر 105) – أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ

2-  سورہ قریش (سورہ نمبر 106) – لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ

3-   سورہ الماعون (سورہ نمبر 107) – أَرَأَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ

4-  سورہ الکوثر (سورہ نمبر 108) – إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ

5-   سورہ الکافرون (سورہ نمبر 109) – قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ

6-  سورہ النصر (سورہ نمبر 110) – إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ

7-  سورہ لہب (سورہ نمبر 111) – تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ

8-  سورہ الإخلاص (سورہ نمبر 112) – قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ

9-  سورہ الفلق (سورہ نمبر 113) – قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ

10-                سورہ الناس (سورہ نمبر 114) – قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ

نماز کی پہلی رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورة الفيل (أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ) (قرآن میں اس سورت کا نمبر 105 ہے) اور دوسری رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد سورة قريش (لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ) (قرآن میں اس سورت کا نمبر 106 ہے) پڑھنا چاہیے،یعنی پہلی رکعت میں جو سورت پڑھی گئی تھی ، دوسری رکعت میں اس کے بعد والی سورت پڑھی جائے گی۔ اور اس کا الٹا نہیں پڑھا جا سکتا، یہ مکروہ تحریمی ہے۔ جیسے کہ پہلی رکعت میں سورة قريش (لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ - 106) اور دوسری رکعت میں سورة الفيل (أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ - 105) البتہ اگر کبھی کبھار بھول کر پڑھ لیا تو نماز ادا ہو جائے گی۔ (بہار شریعت)

نمازوں میں دو سورتوں کے درمیان ایک مختصر سورت چھوڑ دینا مکروہِ تنزیہی ہے،جیسے پہلی رکعت میں سورة الماعون پڑھی (أَرَأَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ ۔ سوره نمبر 107)  اور دوسری رکعت میں سورہ الکافرون پڑھی (قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ۔سوره نمبر 109) ، اور درمیان میں سورة الكوثر چھوڑدی (إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ ۔سوره نمبر 108) تو  یہ مکروہِ تنزیہی ہے، مناسب نہیں ہے، لیکن نماز ہوجائے گی سجدہ سہو لازم نہیں ہوگا۔

اسی طرح نماز میں ایسی دو سورتوں کو ایک ہی رکعت میں پڑھنا جن کے درمیان کوئی سورت ہو خواہ چھوٹی ہو یا بڑی، ایک سورت ہو یا ایک سے زیادہ، یہ بھی مکروہِ تنزیہی ہے۔

اور یہ کہ اگر بھول سے ترتیب چھوٹ گئی مثال کے طور پر پہلی رکعت میں سورہ الکافرون (قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ سورت نمبر - 109 )  پڑھی  دوسری رکعت میں  سورہ النصر (إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ سورت نمبر -  110) پڑھنی چاہیے تھی لیکن سورة الكوثر (إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ سورت نمبر - 108) شروع کر دی ، تو اب مسئلہ یہ ہے کہ جو سورت شروع کر دی ہے اسی کو مکمل کرنا چاہیے یعنی کہ بھول سے اگر ترتیب کا لحاظ نہیں رکھا گیا اور کوئی سورت شروع کر دی تو اب اسی سورت کو مکمل کرنا چاہیے ، کوئی بھی سورت شروع کرنے کے بعد اس کو چھوڑ کر دوسری سورت شروع کرنا مکروہ ہے-

Jawab:✍

Quran-e-Pak mein suraton ki ek makhsoos tarteeb hai, jis-mein pehli surat "Surah Al-Fatiha" aur doosri "Surah Al-Baqarah" hai, jabke aakhri surat "Surah An-Naas" hai.

Yahan aakhri 10 suraton ka zikr karte hain aur yeh samajhte hain ke inhein namaz mein kis tarteeb se padha jata hai:

1- Surah Al-Feel (Surah No. 105) – أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ

2- Surah Quraish (Surah No. 106) – لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ

3- Surah Al-Ma'un (Surah No. 107) – أَرَأَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ

4- Surah Al-Kawthar (Surah No. 108) – إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ

5- Surah Al-Kafiroon (Surah No. 109) – قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ

6- Surah An-Nasr (Surah No. 110) – إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ

7- Surah Al-Lahab (Surah No. 111) – تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ

8- Surah Al-Ikhlas (Surah No. 112) – قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ

9- Surah Al-Falaq (Surah No. 113) – قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ

10- Surah An-Naas (Surah No. 114) – قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ

     Namaz ki pehli rakat mein Surah Al-Fatiha ke baad Surah Al-Feel (أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ - Surah No. 105) aur doosri rakat mein Surah Al-Fatiha ke baad Surah Quraish (لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ - Surah No. 106) padhna chahiye, Yani pehli rakat mein jo surat padhi gayi thi, us ke baad wali surat doosri rakat mein padhi jayegi.

Aur is ka ulta nahi padha ja sakta, keh yeh makrooh tahreemi hai. Jaise ke pehli rakat mein Surah Quraish (لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ - 106) aur doosri rakat mein Surah Al-Feel (أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ - 105). Albata agar kabhi kabhar bhool kar padh liya to namaz ada ho jayegi. (Bahar-e-Shariat)

Namazon mein do suraton ke darmiyan ek mukhtasir surat chor dena makrooh tanzeehi hai, jaise pehli rakat mein Surah Al-Ma'un (أَرَأَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ - Surah No. 107) aur doosri rakat mein Surah Al-Kafiroon (قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ - Surah No. 109) padhi, aur darmiyan mein Surah Al-Kawthar (إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ - Surah No. 108) chor di, to yeh makrooh tanzeehi hai, magar namaz ho jayegi, aur sajda sahw bhi laazim nahi hoga.

Isi tarah namaz mein aisi do suraton ko ek hi rakat mein parhna jinke darmiyan koi surat ho, chahe chhoti ho ya badi, ek surat ho ya ek se zyada, yeh bhi makrooh tanzeehi hai.

Agar bhool se tarteeb chhoot gayi, misal ke tor par pehli rakat mein Surah Al-Kafiroon (قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ - Surah No. 109) padhi, doosri rakat mein Surah An-Nasr (إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ - Surah No. 110) padhni chahiye thi lekin Surah Al-Kawthar (إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ - Surah No. 108) shuru kar di, to ab masla yeh hai ke jo surat shuru kar di hai, usi ko mukammal karna chahiye.

Yani agar bhool se tarteeb ka lehaaz nahi rakha gaya aur koi surat shuru kar di, to ab usi surat ko mukammal karna chahiye. Koi bhi surat shuru karne ke baad usko chhod kar doosri surat shuru karna makrooh hai.

 Farz namaz main Imam ke piche Surah Al-Fatihah - فرض نماز میں امام کے پیچھے سورۃ الفاتحہ پڑھنے کا حکم

والله ورسوله اعلم بالصواب

محمد عظمت الله نظامي عفی عنہ

 

Monday, February 24, 2025

شبِ برات اور اس کی حقیقت کیا ہے؟ - Shab-e-Baraat aur Uski Haqiqat Kya Hai?

 

Islami Taleemaat O Fiqhi Masail

 

 

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ وَٱلصَّلَاةُ وَٱلسَّلَامُ عَلَىٰ أَشْرَفِ ٱلْأَنْبِيَاءِ وَٱلْمُرْسَلِينَ وَعَلَىٰ آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَط اَمَّا بَعْدُ۝

سوال:-

شبِ برات اور اس کی حقیقت کیا ہے؟

Sawal:

Shab-e-Baraat aur Uski Haqiqat Kya Hai?

تسبيحات تراويح - Tasbeehat e Taraweeh 

جواب:✍

شبِ برات (لَیْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ) اسلامی سال کے آٹھویں مہینے شعبان کی پندرہویں رات کو کہا جاتا ہے۔ یہ ایک بابرکت رات ہے، جس میں اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر خصوصی رحمت فرماتا ہے، لوگوں کے گناہوں کو معاف کرتا ہے اور ان کے رزق و قسمت کے فیصلے فرماتا ہے۔

قرآنِ کریم میں براہ راست شبِ برات کا ذکر موجود نہیں، تاہم بعض مفسرین نے سورۃ الدخان کی درج ذیل آیات کو اس رات سے جوڑا ہے:

اللَّهُ تَعَالَى فرماتا ہے:

"إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنْذِرِينَ ۝ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ"(سورۃ الدخان: 3-4)

ترجمہ: بے شک ہم نے اس (قرآن) کو ایک برکت والی رات میں اتارا، بے شک ہم (لوگوں کو) خبردار کرنے والے ہیں، اس میں ہر حکمت والے کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔

اکثر مفسرین کا کہنا ہے کہ یہاں لیلۃ القدر کی طرف اشارہ ہے، تاہم بعض علماء نے اس رات کو شبِ برات کی طرف بھی اشارہ کہا ہے، کیونکہ اس میں بھی سال بھر کے مقدرات لکھے جاتے ہیں۔

احادیث کی روشنی میں شبِ برات کی فضیلت

1. حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی روایت

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں رات اپنی مخلوق پر نظر فرماتا ہے، پھر تمام مخلوق کو بخش دیتا ہے سوائے مشرک اور کینہ رکھنے والے کے۔ (ابن ماجہ)

لهذا اس رات اللہ تعالیٰ کی مغفرت حاصل کرنے کے لیے شرک سے بچنا اور دوسروں سے کینہ و بغض ختم کرنا ضروری ہے۔

2. حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی روایت

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

ایک رات میں نے نبی کریم ﷺ کو اپنے بستر پر نہ پایا، تو میں نے آپ ﷺ کو تلاش کیا۔ میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ جنت البقیع (قبرستان) میں موجود ہیں اور فرما رہے ہیں: اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں رات میں آسمانِ دنیا پر تجلی فرماتا ہے اور قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر (یعنی بے شمار) لوگوں کی مغفرت فرما دیتا ہے۔(سنن ابن ماجہ)

نبی اكرم ﷺ اس رات قبرستان گئے اور مرحومین کے لیے دعا کی، اس لیے ہمیں بھی اپنے مرحومین کے لیے مغفرت طلب کرنی چاہیے۔

اللہ تعالیٰ اس رات بے شمار لوگوں کو بخش دیتا ہے، لہٰذا ہمیں اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

3. حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی روایت

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا:

یا رسول اللہ! میں دیکھتا ہوں کہ آپ شعبان کے مہینے میں بہت زیادہ روزے رکھتے ہیں؟"

آپ ﷺ نے فرمایا:

یہ وہ مہینہ ہے جس میں لوگوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیے جاتے ہیں، اور میں چاہتا ہوں کہ میرا عمل اس حال میں پیش ہو کہ میں روزے سے ہوں۔ (سنن نسائی)

شبِ برات میں کئے جانے والے اعمال:

توبہ و استغفار: اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہیے۔

نوافل ادا کرنا: زیادہ سے زیادہ عبادت کرنی چاہیے۔

درود شریف پڑھنا: نبی کریم ﷺ پر درود و سلام بھیجنا افضل عمل ہے۔

مرحومین کے لیے دعا: قبرستان جا کر یا گھر میں ہی اپنے مرحومین کے لیے مغفرت کی دعا کرنی چاہیے۔

روزہ رکھنا: 15 شعبان کا روزہ مستحب ہے کیونکہ نبی ﷺ نے شعبان میں کثرت سے روزے رکھے۔

شبِ برات میں کن باتوں سے بچنا چاہیے۔

آتش بازی اور غیر شرعی رسومات:

کچھ لوگ شبِ برات کو خوشی کا موقع سمجھ کر آتش بازی کرتے ہیں، جو کہ غیر اسلامی عمل ہے۔

 بغض و کینہ رکھنا:

اگر کسی سے ناراضگی ہو تو اس رات معاف کرکے صلح کر لینی چاہیے، کیونکہ کینہ رکھنے والے کو مغفرت نہیں ملتی۔

شبِ برات اللہ تعالیٰ کی مغفرت، رحمت اور بخشش کی رات ہے، جس میں اللہ تعالیٰ بے شمار لوگوں کے گناہ معاف فرماتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس رات زیادہ سے زیادہ عبادت، دعا، توبہ، اور نیک اعمال کریں اور بدعات و خرافات سے بچیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اس رات کی برکات سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!

شب معراج کے نوافل - Shab-e-Meraj ke Nawafil

Jawaab:✍

Shab-e-Barat Islami saal ke aathwein (8) maheene Shaban ki pandrahveen (15) raat ko kaha jata hai. Yeh ek ba-barkat raat hai, jismein Allah Ta'ala apni makhluq par khusoosi rehmat farmata hai, logon ke gunahon ko maaf karta hai aur unke rizq o qismat ke faislay farmata hai.

Qur'an-e-Kareem mein barah-e-raast Shab-e-Barat ka zikr maujood nahi, taham baaz mufassireen ne Surah Ad-Dukhan ki darj zail ayaat ko is raat se joda hai:

Allah Ta'ala farmata hai:

Tarjuma:

Beshak humne is (Qur’an) ko ek barkat wali raat mein nazil kiya, beshak hum darane wale hain. Is raat mein har hikmat wale maamle ka faisla kiya jata hai. (Surah Ad-Dukhan)

Aksar mufassireen ka kehna hai ke yahan Lailatul Qadr ki taraf ishara hai, taham baaz ulama ne is raat ko Shab-e-Barat ki taraf bhi ishara kaha hai, kyunki is mein bhi saal bhar ke muqaddarat likhe jate hain.

Ahadees ki Roshni Mein Shab-e-Barat Ki Fazilat

    Hazrat Mu’az bin Jabal رضی اللہ عنہ ki Riwayat

    Nabi Akram ﷺ ne farmaya:

Allah Ta'ala Shaban ki pandrahveen raat apni makhluq par nazar farmata hai, phir tamam makhluq ko bakhsh deta hai, siwaye mushrik aur keena rakhne wale ke. (Ibn Majah)

     Lihaza, is raat Allah Ta'ala ki maghfirat hasil karne ke liye shirk se bachna aur doosron se keena o bughz khatam karna zaroori hai.

2. Hazrat Ayisha Siddiqah رضی اللہ عنہا ki Riwayat

Hazrat Ayisha رضی اللہ عنہا farmati hain:

Ek raat maine Nabi Kareem ﷺ ko apne bistar par na paya, to maine aap ﷺ ko talash kiya. Maine dekha ke aap ﷺ Jannat-ul-Baqi' (qabrustan) mein maujood hain aur farma rahe hain: Allah Ta'ala Shaban ki pandrahveen raat mein asman-e-duniya par tajalli farmata hai aur qabeela Kalb ki bakriyon ke balon ke barabar (ya'ni be-shumar) logon ki maghfirat farma deta hai. (Sunan Ibn Majah)

Nabi Akram ﷺ is raat qabrustan gaye aur marhoomeen ke liye dua ki, is liye humein bhi apne marhoomeen ke liye maghfirat talab karni chahiye.

Allah Ta'ala is raat be-shumar logon ko bakhsh deta hai, lihaza humein is moqa ko zaya nahi karna chahiye.

3. Hazrat Usama bin Zaid رضی اللہ عنہ ki Riwayat

Hazrat Usama bin Zaid رضی اللہ عنہ farmate hain ke maine Nabi Kareem ﷺ se poocha:

Ya RasulAllah! Main dekhta hoon ke aap Shaban ke maheene mein bohot zyada roze rakhte hain?

Aap ﷺ ne farmaya:

Yeh woh maheena hai jismein logon ke aamaal Allah Ta'ala ke huzoor pesh kiye jate hain, aur main chahta hoon ke mera amal is haal mein pesh ho ke main roze se hoon. (Sunan Nasa'i)

Shab-e-Barat Mein Kiye Jane Wale Amaal:

Tauba o Istighfar: Apne gunahon ki maafi maangni chahiye.

Nawafil Ada Karna: Zyada se zyada ibadat karni chahiye.

Durood Sharif Parhna: Nabi Kareem ﷺ par durood o salam bhejna afzal amal hai.

Marhoomeen Ke Liye Dua: Qabrustan ja kar ya ghar mein hi apne marhoomeen ke liye maghfirat ki dua karni chahiye.

Roza Rakhna: 15 Shaban ka roza mustahab hai kyunki Nabi ﷺ ne Shaban mein kasrat se roze rakhe.

Shab-e-Barat Mein Kin Baton Se Bachna Chahiye:

Aatishbazi Aur Ghair Shari Rasoomat: Kuch log Shab-e-Barat ko khushi ka moqa samajh kar aatishbazi karte hain, jo ke ghair Islami amal hai.

Bughz o Keena Rakhna: Agar kisi se narazgi ho to is raat maaf karke sulah kar leni chahiye, kyunki keena rakhne wale ko maghfirat nahi milti.

Shab-e-Barat Allah Ta'ala ki Maghfirat, Rehmat aur Bakhshish ki Raat hai, jismein Allah Ta'ala be-shumar logon ke gunah maaf farmata hai.

Humein chahiye ke is raat zyada se zyada ibadat, dua, tauba aur naik aamaal karein aur bidaat o khurafaat se bachen.

Allah Ta'ala humein is raat ki barkaat se mustafeed hone ki taufeeq ata farmae, Ameen!

 Shab-e-Barat main Ghusl magrib ke baad karna sahi hai ya magrib se phele? - شبِ براءت میں غسل مغرب سے پہلے یا مغرب کے بعد کرنا چاہیے؟

والله ورسوله اعلم بالصواب

محمد عظمت الله نظامي عفی عنہ

Share

Popular posts